اسلام آباد میں متحارب سیاسی جماعتوں کے حامیوں میں تصادم آرائیاں سرینگر//اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں مخالف سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے
مابین تصادم آرائیوں کے دوران ایک خاتون سمیت نصف درجن افراد زخمی ہوئے جبکہ
مشتعل کارکنوں نے کئی گاڑیوں اور رہائشی مکانوں کی زبردست توڑ پھوڑ کی ۔
تفصیلات کے مطابق شانگس اسلام آباد میں آج پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس ورکروں
کا اچانک آمنا سامنا ہوا اور اس موقعہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا
ہوگئے۔ نمائندے کے مطابق لفاظی جنگ اور بحث وتکرار کے بعد مخالف سیاسی پارٹیوں
کے حامی ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے اور مخالف کارکنوں کی شدید مارپیٹ کی ۔ اس واقعہ
میں طاہرہ بانودختر محمد عبداللہ ، سومو ڈرائیور شوکت احمد میر ولد غلام
قادراور اعجاز احمد بٹوولد حبیب اللہ کو چوٹیں آئیں۔ بعد میں پولیس نے مداخلت
کرکے مشتعل لوگوں کو بھگا دیا۔ ادھر کپرن ویری ناگ میں انہی دو پارٹیوں کے
کارکنوں کے مابین جھڑپ کے دوران عبدالرحمان نامی ایک شہری کے مکان کی زبردست
توڑ پھوڑ کی اور کھڑکی دروازوں کے شیشے چکناچور کردئے۔ ادھر تھجی وارہ علاقے
میں آزاد امیدوار عبدالرشید ڈار اور پی ڈی پی کارکنوں کے مابین تصادم آرائی کے
دوران کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ ڈالے گئے۔ ان دونوں جگہوں پر بھی پولیس کو مداخلت
کرکے حالات کو قابو کرنا پڑا۔
کانگریس ریاست میں حتمی اکثریت حاصل کر کے اپنی حکومت بنائے گی: سوز سرینگر//کانگریس کے ریاستی صدر پروفیسر سیف الدین سوز نے آج دعویٰ کیا کہ
کانگریس پارٹی ریاست میں جاری انتخابات میں حتمی اکثریت حاصل کرکے اپنی حکومت
قائم کرے گی۔حلقہ انتخاب بھدرواہ کے کلوتراں ،گندوہ اور بھدرواہ میں انتخابی
جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سوز نے کہا کہ ریاست کے مختلف علاقوں کا دورہ
کرنے کے بعد انہوںنے یہ اخذ کیا ہے کہ کانگریس پارٹی ریاست میں حکومت بنانے کے
لئے درکار نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے اپنے طور حکومت قائم
کرے گی۔انہوںنے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کو بھاری
اکثریت سے کامیاب بنا کر انہیں دوبارہ ریاستی اسمبلی کے لئے منتخب کریں کیونکہ
انہوںنے ریاست جموں کشمیر بالخصوص بھدرواہ اور ڈوڈہ ضلع کے دیگر علاقوں کی
تعمیر و ترقی کے لئے قابل ستائش کردار ادا کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ کانگریس کی
سربراہی میں مخلوط سرکار نے ریاست کی مجموعی تعمیر و ترقی کے حوالے سے کئی سنگ
میل طے کئے اور کانگریس پارٹی مستقبل میں لوگوں کےلئے اس سے زیادہ کرنے کی
خواہش رکھتی ہے۔انہوںنے عوام کو یقین دلایا کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں
بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی اور بےروزگاری و غریبی کا خاتمہ پارٹی کی اولین
ترجیحات میں شامل ہونگے۔پردیش کانگریس کے صدر نے اس موقعہ پر اعلان کیا کہ
کانگریس پارٹی ایک ایسی اسکیم مرتب کرے گی جس کے تحت پڑھے لکھے بےروزگار
نوجوانوں کو روز گار مہیا ہونے تک بےروزگاری بھتہ فراہم کیا جائے گا۔انہوںنے
کہا کہ ان کی پارٹی لوگوں کے ساتھ کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرے گی ۔پروفیسر
سوز نے پارٹی کے لیڈران پر زور دیا کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں کی بہتر خدمت کےلئے
وقف کریں۔اس موقعہ پر پارٹی کے سینئر لیڈران چودھری لال سنگھ ،محمد شریف نیاز ،جگل
کشور،عبدالغنی وکیل،بشیر احمد ناز ،سومراج،جہانگیر میر اور چودھری سلام الدین
نے بھی جلسوں سے خطاب کیا۔دریں اثناءسابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے آج دمحال
ہانجی پورہ کولگام میں چناﺅی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی
ریاستی عوام کو در پیش مسائل کا واحد حل ہے اور لوگوں کو پارٹی کے حق میں ہی
اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا چاہئے۔انہوںنے اس موقعہ پر اقتدار میں آنے کی
صورت میں 80ہزار بےروزگاروں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ
روزگار ملنے تک تعلیم یافتہ بےروزگاروں کو حکومت کی طرف سے وظیفہ دیا جائے گا۔
سہ روزہ غیر اعلانیہ کرفیو کے بعد وادی میں معمولات زندگی بحال سرینگر// سرینگر میں تین روزہ سخت ترین غیر اعلانیہ کرفیو کے بعد آج معمول
کی زندگی بحال ہو گئی جس کے ساتھ ہی کاروباری اداروںا ور دفاتر نے معمول کا کام
کاج شروع کیا جبکہ گاڑیوں کی نقل وحرکت معمول پر آنے سے بازاروں کی گہما گہمی
دوبارہ لوٹ آئی۔ کارڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے12دسمبر جمعہ کی ہڑتالی کال کے پیش
نظرجمعرات کی شب سے سرینگر اور دیگر کچھ قصبہ جات میں بغیر اعلان کرفیو نافذ
کیاگیا جس کے نتیجے میں چپے چپے پر پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کرکے لوگوں
کو گھروں کے اندر محصور کردیاگیا ۔ کرفیو کے دوران شہر سرینگر اور وادی کے دیگر
کئی قصبہ جات کی سڑکیں اور شاہراہیں مکمل طور پر سیل کی گئی تھیں اور کئی پلوں
کو بھی آمدورفت کیلئے مکمل طور پر بند کردیاگیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو صحیح
معنوں میں اپنے گھروں کے اندر یرغمال بنایاگیا۔ چنانچہ اگلے روز 13دسمبر کو
شوپیان اور پلوامہ اضلاع کی 6نشستوں پر انتخابات کئے جانے تھے اور کارڈی نیشن
کمیٹی نے اس حوالے سے لوگوں کو جہاں الیکشن وہاں چلو کے تحت دونوں اضلاع کی طرف
رخ کرکے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کی اپیل کی تھی۔اس دورانانتظامیہ نے کارڈی
نیشن کمیٹی کی کال کو ناکام بنانے کےلئے سنیچر کی صبح ہی گذشتہ روز کی طرح
سڑکوں پر پولیس اور سی آر پی ایف کی ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کرکے لوگوں کو
گھروں کے اندر محصور کر دیا۔سنیچر کے روز فورسز اہلکاروںنے کسی بھی شہری کو
چلنے کی اجازت نہیں دی اور جگہ جگہ پر خار دار تاریں نصب کرکے لوگوں کی نقل و
حرکت کو نا ممکن بنایا تھا۔چنانچہ 14دسمبر کو وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی
وادی آمد پر کارڈی نیشن کمیٹی کے شریک چیرمین سید علی شاہ گیلانی نے لوگوں کو
ہڑتال کرنے کی اپیل کی تھی ۔انتظامیہ نے وزیر اعظم کی آمد پر کسی بھی ممکنہ گڑ
بڑ کا مقابلہ کرنے کےلئے ایک متربہ پھربھاری تعداد میں سی آر پی ایف اور دیگر
سیکورٹی ایجنسیوں کو تعینات کیا۔پولیس اور سی آر پی ایف نے مسلسل تیسرے روز بھی
غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کرکے لوگوں کو باہر آنے پر پابندی عائد کر دی۔تاہم بعد
میں شانگس اسلام آباد میں جونہی وزیر اعظم عوامی اجتماع سے خطاب کرکے جموں
روانہ ہوئے تو انتظامیہ نے کرفیومیں ڈھیل دی جس کے بعد سڑکوں اکا دکا گاڑیاں
چلتی دیکھی گئیں جبکہ لوگوں نے بھی پیدل سفر کیا۔چنانچہ تین دن کے وقفے کے بعد
آج صبح سے ہی دکانیں اور کاروباری ادارے کھلنا شروع ہوئے جبکہ سرکاری، نیم
سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں نے بھی معمول کا کام کاج
شروع کیا۔ اس طرح عید کے بعد آج پہلی بار شہر سرینگر اور دیگر تمام قصبہ جات کے
بازاروں میں صبح سے ہی گہما گہمی دیکھنے کو ملی اورلوگوں نے دن بھر ضروری
اشیاءکی خریداری کی جس کے نتیجے میں بازاروں کی رونق دوبارہ لوٹ آئی۔
تیز رفتار فوجی گاڑی نے نوجوان کو کچل کر ہلاک کرڈالا
لاوے پورہ میں فوج کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور دھرنا سرینگر//سرینگر مظفرآباد شاہراہ پر لاوے پورے کے نزدیک تیز رفتار فوجی گاڑی
نے نوجوان موٹر سائیکل سوار کو کچل کر ہلاک کرڈالا جس کے بعد وہاں فوج کے خلاف
زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد ورفت کئی گھنٹوں تک
روک دی گئی۔ یہ حادثہ صبح 9بجکر45منٹ پر سرینگر کے مضافات میںواقع کرمانی آباد
لاوے پورہ میں سید احمد شاہ کرمانیؒ کی زیارت کے قریب پیش آیا۔ عینی شاہدین نے
بتایا کہ سرینگر کی طرف آرہی فوجی کانوائے میں شامل ایک گاڑی نے اسی سمت میں اس
کے آگے جارہے موٹر سائیکل زیر چیسز نمبر28764کو زوردار ٹکر ماری اور اس پر سوار
تنویراحمد شیخ ولد غلام محمد ساکن ہردعبورہ ٹنگمرگ کو بری طرح سے کچل ڈالا ۔
عینی شاہدین کے مطابق تنویراحمد خون میں لت پت سڑک پر گرگیا اورا س کی موقعہ پر
ہی موت واقع ہوئی۔ حادثہ کے فوراً بعد مقامی مردوزن کی ایک بڑی تعداد سرینگر
مظفرآباد شاہراہ پر نکل آئی اور فوج کے خلاف نعرے بازی شروع کی۔ مظاہرین نے اس
موقعہ پر شاہراہ پر بڑے بڑے پتھر رکھ کر گاڑیوں کی آمد ورفت مکمل طور پر روک دی
جس کے نتیجے میں سینکڑوں چھوٹی بڑی مسافر اور مال بردار گاڑیاں قریب دوپہر ایک
بجے تک شاہراہ پر درماندہ رہیں اور بیشتر مسافروں کو کئی کلو میٹر کاسفر پیدل
طے کرنا پڑا، یہاں تک کہ مظاہرین نے کسی بھی فوجی گاڑی یا کانوائے کو بھی آگے
جانے کی اجازت نہیں دی۔ جائے واردات کا دورہ کرنے والے کے این ایس نمائندے کے
مطابق مظاہروں کے دوران فوج وپولیس کے خلاف اور آزادی کے حق میں زوردار نعرے
بازی کی گئی اور اس دوران اگر چہ پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسران نے مداخلت کرکے
مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مسلسل کئی گھنٹوں تک احتجاج
جاری رکھا۔اسی اثناءمیں پولیس اور2آر آر کے افسران نے مظاہرین کو یہ کہہ کر
پرامن طور پر منتشر کیا کہ حادثے کے بارے میں مکمل تحقیقات کی جائے گی اور اس
میں ملوث ڈرائیور کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عینی شاہدین
نے بتایا کہ حادثہ کے فوراً بعد موٹر سائیکل سوار کو کچلنے والی فوجی گاڑی جائے
واردات سے فرار ہوگئی تاہم بعد میں 2آر آر کے اہلکاروں نے اس گاڑی کو ڈرائیور
سمیت اپنی تحویل میں لے لیا۔اس حادثے کے سلسلے میں پولیس اسٹیشن پارمپورہ میں
ایف آئی آر زیر نمبر285/2008درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔
حجاج کرام پر مشتمل پہلا قافلہ سرینگر پہنچ گیا سرینگر//سعودی عرب میں فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد 253کشمیری حجاج کرام کا
پہلا قافلہ آج ائرانڈیا کی دو خصوصی پروازوں کے ذریعے سرینگر لوٹ آیا۔ اس سال
ریاست کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 7926عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی۔
عازمین کی سعودی عرب روانگی کا سلسلہ 30اکتوبر کو شروع ہواتھااور آج سے حجاج
کرام کی سفر محمود سے واپسی کا سلسلہ شروع ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ 167حجاج کرام
کو لیکر ائرانڈیا کی پہلی خصوصی پرواز میں سوار حاجی صاحبان نے رات بھر ممبئی
میں قیام کیا کیونکہ سرینگر ائرپورٹ پر رات کے دوران کسی بھی جہاز کے اترنے کی
سہولیت دستیاب نہیں ہے۔ حجاج کرام کا یہ پہلا قافلہ آج صبح 9بجے سرینگر ہوائی
اڈے پر پہنچا جس میں بیشتر حاجی صاحبان کا تعلق بارہمولہ اور کپوارہ سے ہے۔
ذرائع کے مطابق مزید 186حاجی صاحبان کی پرواز شام سوا 5بجے سرینگر ہوائی اڈے پر
پہنچ گئی اوراس طرح مجموعی طور پر پہلے قافلے میں 253حاجی صاحبان بحفاظت اپنے
گھروں کو لوٹ آئے۔
ہندوارہ میں بی پی ایل چاول چور بازار میں فروخت کرنیکا انکشاف سرینگر//ہندوارہ میں بی پی ایل اسکیم کے تحت خط افلاس سے نیچے گذر بسر کرنے
والے کنبوں کےلئے مخصوص چاول کو چور بازار میں فروخت کرنے کا انکشاف ہوا
ہے۔تفصیلات کے مطابق آج صبح قلم آباد ،آرڈورہ،وارپورہ،چک،شاہ نگری اور منز پورہ
کے سینکڑوں مرد و زن اپنے گھروں سے باہر آئے اور سڑک پر نکل کر محکمہ امور
صارفین و عوامی تقسیم کاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔احتجاجی مظاہرین
الزام لگا رہے تھے کہ راشن گھاٹ کے اسٹور کیپر بی پی ایل اسکیم کے تحت غریبی
سطح سے نیچے زندگی گذر بسر کرنے والے کنبوں میں گذشتہ3ماہ سے ان کے لئے مخصوص
چاول فراہم نہیں کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوںنے کئی بار متعلقہ راشن
گھاٹوں کے اسٹور کیپروں سے معاملے کے حوالے سے جانکاری حاصل کرنی چاہی تاہم
مظاہرین کے بقول ہر بار انہیں مختلف بہانوں سے ٹرخایا جا رہا ہے۔مظاہرین میں
شامل غلام حسن خان ساکنہ قلم آباد نے بتایا کہ آج انہوںنے جب اس معاملے کو
محکمہ کے اعلیٰ افسران کی نوٹس میں لایا تو وہ یہ سن کر ششدر رہ گئے کہ محکمہ
کی جانب سے بی پی ایل زمرے کے تحت افراد میں معمول کی طرح چاول فراہم کیا جا
رہا ہے اور اس حوالے سے محکمہ کے پاس باضابطہ ثبوت بھی موجود ہے۔انہوںنے کہا کہ
حقیقت یہ ہے کہ اس زمرے کے تحت چاول /16
چھٹے مرحلے کے سلسلے میں ۰۷۱ امیدوار انتخابی اکھاڑے میں سرینگر// ریاست جموں وکشمیر میں جاری اسمبلی انتخابات کے چھٹے مرحلے کے
سلسلے میں اسلام آباد اور کولگام اضلاع کی 10انتخابی نشستوں کے لئے
170امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ جمعرات کو ہونے جارہا ہے۔ جس روز رائے دہندگان
امیدواروں کی بہتات کے حق میں اپنا ووٹ دینگے۔ جنوبی کشمیر کے دونوں اضلاع میں
سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید سمیت سابق وزراءپیرزادہ محمد سعید، عبدالرحمان
ویری، عبدالغفار صوفی کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر اور سابق وزیر
محبوب بیگ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق جنوبی
کشمیر کے اسلام آباد اور کولگام اضلاع میں 10انتخابی نشستےں ہیں جن میں اسلام
آباد کی 6اور کولگام کی 4نشستیںشامل ہیں۔ سیاسی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل
اسلام آباد کی انتخابی نشست پر پی ڈی پی کی طرف سے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد
سعید اور نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ڈاکٹر محبوب بیگ کے درمیان براہ راست
مقابلہ ہے۔ اس انتخابی حلقے میں امیدواروں کی کل تعداد 23 ہے جن میں کانگریس کی
طرف سے منظور احمد گنائی، عوامی لیگ کی طرف سے لیاقت علی خان، پی ڈی ایف کے
افتخار حسین اورآزاد امیدوار ہلال احمد شاہ قابل ذکر ہےں۔ تجزیہ نگاروں کے
مطابق اسلام آباد کی نشست پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے لئے انتہائی اہمیت کی
حامل ہے اور ان دونوں پارٹیوں نے اس انتخابی نشست کے فیصلے پر اپنا سارا زور
صرف کیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ریاست کی حکومت سازی میں اس نشست کا اہم رول
ہوگا۔ ادھر بجبہاڑہ حلقہ انتخاب میں امیدواروں کی کل تعداد 12 ہے جن میں پی ڈی
پی کے سابق وزیر عبدالرحمان ویری ، نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر بشیر احمد، آازاد
امیدوار غلام قادر ٹاک قابل ذکر ہےں۔ اسلام آباد ضلع کے ہی شانگس (کوٹہار)انتخابی
حلقے میں 17امیدوار میدان میں کود پڑے ہیں جن میں نیشنل کانفرنس کے محمد سعید،
پی ڈی پی کے پیر منصور ، کانگریس کے گلزار احمد گنائی اور لیجسلیٹیو کونسل کے
سابق چیئرمین عبدالرشید ڈار قابل ذکر ہےں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس انتخابی
حلقے میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے درمیان براہ راست مقابلہ ہے اور اس
انتخابی حلقے میں کانگریس کو فائدہ ملنے کی توقع ہے۔ کوکرناگ (برنگ)انتخابی
حلقے میں 20امیدوار میدان میں اٹھ کھڑے ہے جن میں کانگریس کے سابق صدر اور سابق
وزیر پیر زادہ محمد سعید اور پی ڈی پی کی سحر اقبال شامل ہےں ان کے علاوہ نیشنل
کانفرنس کے غلام نبی اڑیگامی ، عوامی نیشنل کانفرنس کے غلام رسول ، اور پی ڈی
ایف کے بشیر احمد آہنگربھی اس انتخابی حلقے میں قابل ذکر ہے۔ ڈورو انتخابی حلقے
میں 20امیدوار انتخابی میدان میں موجود ہےں جن میں کانگریس کے غلام احمد میر،
نیشنل کانفرنس کے محمد اکبر گنائی، پی ڈی پی کے فاروق اندرابی، آزاد امیدوار
پیر منظور احمداور عوامی نیشنل کانفرنس کے ظفر اللہ خان شامل ہےں۔ اس انتخابی
حلقے میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے درمیان براہ راست مقابلہ ہے تاہم پی ڈی
پی کو بھی قابل ذکر کارکردگی کی امید ہے۔جنوبی کشمیر اسلام آباد ضلع کے پہلگام
انتخابی حلقے میں 12امیدوار میدان میں موجود ہے جن میں پی ڈی پی کے رفیع احمد
میر، نیشنل کانفرنس کے الطاف احمد کلو اور آزاد امیدوار عرفان کولر کے مابین
تکونی مقابلہ کی امید ہے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی 4انتخابی نشستوں جن میں
کولگام کے 18، ہوم شالی بگ کے 13، نورآباد کے 15اور دیوسرکے 20امیدوار شامل ہےں،
انتخابی میدان میں کود پڑے ہیں۔کولگام کی چاروں انتخابی نشستوں میں سی پی آئی
ایم کے جنرل سیکریٹری محمد یوسف تاریگامی، پی ڈی پی کے نذیر احمد لاوے، نیشنل
کانفرنس کے صفدر علی خان، پی ڈی پی کے سابق وزیر صوفی غفار ، نیشنل کانفرنس کے
غلام نبی بٹ ، سی پی آئی ایم کے محمد امین کھانڈے، نیشنل کانفرنس کی سکینہ یتو،
پی ڈی پی کے عبدالعزیز زرگر، کانگریس کے عبدالمجید پڈر، عوامی نیشنل کانفرنس کے
غلام رسول ڈار، پی ڈی پی کے سرتاج مدنی، نیشنل کانفرنس کے غلام احمد شاہ،
کانگریس کے محمد امین بٹ اور آزاد امیدوار محمد امین خان انتخابی میدان میں
موجود ہےں جن کی سیاسی قسمت کا فیصلہ 17دسمبر کو ہونے جارہا ہے۔
Owner Printer Publisher Editor G. N. Shaida
8 Pratap Park Flats(Press Enclave)
Srinagar, Jammu & Kashmir 190 001 INDIA Email:awaz@wadikiawaz.in